کیوں غلط آسا پال رکھا ہے

March 15, 2021
Love
0 0

تیرا تحفہ سنبھال رکھا ہے
اب بھی اک اور وبال رکھا ہے

میرا دل کیسے آگیا تم پر
یہ لبوں پر سوال رکھا ہے

گمشدہ ہو گیا ہے دم میرا
ہاں ترا پھر خیال رکھا ہے

اب ملاقات تو نہیں ہوتی
رابطہ بہرِحال رکھا ہے

جب سے آنکھوں کو پڑھ لیا تیری
دل نے پھر احتمال رکھا ہے

گل نہیں راستہ وہ تیرا ہے
کیوں غلط آسا پال رکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *