کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا

January 19, 2021
broken
0 0

کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا

مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو
کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا

مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا

یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے ،ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہیں کوئی ،مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا

تری یاد آئی تو رو دیا ، جو تو مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں ، تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا

یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *