تیرے ہوتے ہوۓ محفل میں جلاتے ہیں چراغ

January 19, 2021
Love
0 0

تیرے ہوتے ہوۓ محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کو بجھاتے ہیں چراغ

بستیاں دور ہوئ جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دم بہ دم آنکھوں سے چھبتے چلے جاتے ہیں چراغ
کیا خبر ان کو کے دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں
جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ

گو سیاہ بخت ہیں ، ہم لوگ پُر ہے ضمیر
خود اندھیرے ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ
بستیاں چاند ستاروں میں بسانے والوں
کرہ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

                                                            ایسے بے درد ہوۓ ہم بھیب کے اب گلشن پر
برق گرتی ہے تو ذنداں میں جلاتے ہیں چراغ
ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کے فراز
رات تو رات ہے ہم دن کو بھی جلاتے ہیں چراغ
❤(احمد فرز)❤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *