تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

January 19, 2021
sad
0 0

تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو

پھر خود ہی مجھے ترک محبت کی سزا دو

ہمت ہے تو پھر سارا سمندر ہے تمہارا

ساحل پہ پہنچ جاؤ تو کشتی کو جلا دو

اقرار محبت ہے نہ انکار محبت

تم چاہتے کیا ہو ہمیں اتنا تو بتا دو

کھل جائے نہ آنکھوں سے کہیں راز محبت

اچھا ہے کہ تم خود مجھے محفل سے اٹھا دو

سچائی تو خود چہرے پہ ہو جاتی ہے تحریر

دعوے جو کریں لوگ تو آئینہ دکھا دو

انسان کو انسان سے تکلیف ہے اخگرؔ

انسان کو تجدید محبت کی دعا دو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *